کیا دنیوی تعلیم مسجد میں دے سکتے ہیں

 سوال،،

کیابچے اور بچیوں کے لیے عصری تعلیم گاہ مسجد میں بنانا جائز ہے، یا ناجائز ؟ مددل جواب تحریر فرمائیں ، 

مولانا تنویر عالم اشاعتی

__________________________________________________

جواب،،

صورتِ  مسئولہ میں  مسجد کے اندر عصری تعلیم گاہ  کھولنا  جائز نہیں ہے، مسجد کے اندر   شدید ضرورت کے بغیر  فیس لے کر قرآن اور دین کی تعلیم دینا بھی مکروہ ہے، چہ جائے کہ مسجد میں  عصری تعلیم گاہ ہو، یہ  مسجد کے تقدس کے منافی  ہے۔

البتہ  ضرورت اور جگہ کی تنگی کی وجہ سے  قرآن اور دین کی ضروریات کی تعلیم مسجد کے آداب  اور احترام کی رعایت کرتے ہوئے اور صفائی کا خیال رکھتے ہوئے  مسجد کے اندر دینی تعلیم دینا جائز ہے،اس لیے  قرآن اور دینی ضروریات کے لیے  عارضی درس گاہ بنانے کی اجازت ہے، لیکن مسجد میں  دنیوی تعلیم کی اجازت نہیں  ہے، 

فقد قال الله تعالى: {وأن المساجد لله} [الجن: 18] وما تلوناه من الآية السابقة فلايجوز لأحد مطلقًا أن يمنع مؤمنًا من عبادة يأتي بها في المسجد؛ لأنّ المسجد ما بني إلا لها من صلاة واعتكاف وذكر شرعي وتعليم علم وتعلمه وقراءة قرآن، ولايتعين مكان مخصوص لأحد".( بحر الرائق ج/ ۲ ص ۶۰ ) 

معلم جلس في المسجد أو ورّاق کتب في المسجد، فإن کان المعلم یعلم بالأجروالورّاق یکتب لغیره، یکره لهما إلا أن یقع لهما الضرورة".  (التاتار خانیة، زکریا ۱۸/۶۶، رقم: ۲۸۴۷)

 مفتی محمد صدر عالم قاسمی و مفتاحی، سپولوی

Comments

Popular posts from this blog

سیرت النبی ﷺ پر خوبصورت اشعار،

نظیر اکبرآبادی کی نظم،بنجارہ نامہ کا خلاصہ

اعلان